Thursday, August 7, 2014
Wednesday, August 6, 2014
how to protect system from hangup
Posted on 7:43 AM by Unknown
sometime our system hanged up after start.its due to a Microsoft service. Name "Background intelligent transfer"
this service always running background its make our system speed high to low in the result system goes hanged.
i will show you how to turn off this service just follow the step below...
Step 1: go to run and type “msconfig” popup window will open
Step 2: Now click on service tab and find the “background intelligent
transfer” unchecked this and click OK and restart your system see fig..
Thursday, July 24, 2014
How to make an invisible folder
Posted on 2:26 AM by Unknown
Are you
wanted to hide your data? And you are confused how to hide don’t worry you don’t
need any software to hide. I will share you simple trick to hide your data with
making invi sible folder in your system...
v So let’s do,
first of all select your place where you want to make this folder it’s your own
choice
v So right click that
place and go and click on New folder
v Now right click
on folder that you had made go to properties. In properties find and hit custom
tab on the bottom of the custom tag select Change icon.
v Know new tab
will be open on your screen in new tab find blank folder select it and apply
and then OK.
v Now rename the
folder holding the left Alt key and write this code 0160 then press Enter you
WOW! Done.
Now see the screen shot....
step:1 go to that place where you want to make folder and Right click see
Step:2 New folder will show Right click on folder and go to properties.
Step:3 Go to customize tab and then change icon
Step:4 chose blank folder and hit Ok
Step:5 Rename the folder by pressing the Alt key and enter the code and enter
This folder will not find in search if you search in your computer hope you like this.
Thursday, July 10, 2014
How to make Hard Disk fast
Posted on 6:32 AM by Unknown

Hello world! Here is the tricks make your hard disk fast with this simple tricks. To speed up your hard disk you need to configure special buffer in the computer memory in order to enable it to deal better with interrupts from the disk recommended for if 256MB or higher rams.See the step below
Ø Step 1: Go to Start button and hit RUN and Type SYSEDIT.EXE
Ø Step2: Now Expend the System. ini file window
Ø Step 3: Scroll down the end of the file you find a line as [386enh]
Ø Step 4: Now hit the enter to make blank line and type this Irq14=4096 in blank line
Ø Step 6: Note this line is case sensitive click on the file menu to save this
Ø
Wednesday, July 9, 2014
How to delete Temporary files automatically
Posted on 3:48 AM by Unknown
Today I will teach you how to delete temporary files automatically from your computer with very simple method. Follow the step given below!
Step 1= first go to your start button then go to Run
Step 2= now write this command “sysedit” then hit Enter
Step 3= Now pop-up windows will open bat file maybe in front like this
Step 4= now copy and paste this in opened window
deltree /y c:\windows\temp
md c:\windows\temp
Sunday, July 6, 2014
Why we become Muslim..
Posted on 1:54 AM by Unknown
Hello friends! Today I am going to share you interesting stories about Non-Muslim. Why they became Muslim..so lets start...
﷽
اسلام علیکم دوستو! اللہ تعالٰی سے امید کرتا ہوں کہ آ پ سب ایمان کی حالت میں خوشی خوشی زندگی بسر کر رہے ہونگے۔ آج میں آپ کی خدمت میں ماضی قریب اور زمانہ حال کے ان معروف اہل علم حضرات جن میں سائنس دان ، انجینئر اساتذہ اور دانشور ، صحافی مشرقی بھی ہیں اور مغربی بھی کس طرح وہ اپنے آبائی مذاہب کو چھوڑ کر حلقہ بگوسِ اسلام ہوے ۔
ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم نے اسلام کی دولت ورثہ میں پائ، لیکن نا قدرے ہیں کہ اس دولت کی حفاظت کے کیے نہ جدوجہد کی نہ قربانی دی۔ان نو مسلم خواتین و حضرات سے پوچھئے کہ انہوں نے اس راستے میں کیا صعوبتیں جھیلیں اور اس چشمہ صافی تک پہنچنے کے لیے کتنے ہفت خواں طے کرنے پڑے۔اکثر سر گزشتوں کا بیان ان کے اپنے الفاظ میں ہے جو میں آپ کی خدمت میں حاضر کروں گا۔ امید ہے پسند آۓ گا
محمد علی
(بھارت)
بھارت کے صوبہ اتر پردیش میں اعظم گڑھ خاصا معروف ہے۔ اس ظلع کی تحصیل گھوسی میں مانی پورا سنا ٗ نام کا ایک گاؤں ہے ٗ جو درئے گنگا سے چوبیس پچیس کلو میٹر دور واقع ہے ٗ گاؤں ڈیڑھ دو سو گھروں پر مشتمل ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جبکہ ہندوؤں کے گھر بمشکل سولہ سترہ ہوں گے۔مسلمان زیادہ تر زمیندار ہیں یا پھر باہر کے ممالک میں ملازم ہیں ٗ پٹھان اور شیخ برادریوں سے ان کا تعلق ہے جبکہ ہندو آبادی کا تعلق کمہار اور بنیاذاتوں سے ہے ٗمانی پوراسنا کے اردگردشودروں اورہر یجنوں کےگاؤں ہیں۔
مانی پوراسنا میں ایک ہندو بینے جمناداس کے ہاں اس کا تیسرا بیٹا رام چندر 1966ءمیں پیدا ہوا جو 13 اپریل 1983ء کو مسلمان ہو گیا ٗ مسلمان ہونے کے بعد وہ لامتنا ہی مصائب و مشکلات کا شکار ہوا اور ظلم کے دریاؤں میں سے اسے گزرنا پڑا اس کی داستان سن کر ذہن میں حضرت بلال حضرت حبیب اور حضرت مصعب بن عمیرؓ کی داستانوں کی فلم چلنے لگتی ہے۔ اس کے ایمان افروز سفر آزمائش کی روداد اسی کی زبانی سنئے' یہ داستان ملک احمد سرور نے مذکورہ نو مسلم سے انٹرویو کے بعد رقم کی شمارہ جولائی میں شائع ہوئی۔
مانی پوراسنا میں ایک ہندو بینے جمناداس کے ہاں اس کا تیسرا بیٹا رام چندر 1966ءمیں پیدا ہوا جو 13 اپریل 1983ء کو مسلمان ہو گیا ٗ مسلمان ہونے کے بعد وہ لامتنا ہی مصائب و مشکلات کا شکار ہوا اور ظلم کے دریاؤں میں سے اسے گزرنا پڑا اس کی داستان سن کر ذہن میں حضرت بلال حضرت حبیب اور حضرت مصعب بن عمیرؓ کی داستانوں کی فلم چلنے لگتی ہے۔ اس کے ایمان افروز سفر آزمائش کی روداد اسی کی زبانی سنئے' یہ داستان ملک احمد سرور نے مذکورہ نو مسلم سے انٹرویو کے بعد رقم کی شمارہ جولائی میں شائع ہوئی۔
ہمارے گاؤں میں زیادہ تر گھر مسلمانوں کے تھے تبلیغی جماعت والے وہان تبلیغ کرنے اکثر آیا کرتے سات آٹھ سا ل کی عمر میں میرا ان سے واسطہ پڑا میرے والد کی پرچون کی دوکان تھی وہ مجھے سے کہتے کہ میں تبلیعی جماعت والوں کی خدمت کروں تاکہ وہ اپنی ظرورت کےلئے سوداسلف ہماری دوکان سے خریدیںٗ اپنے والد کی اس ہدایت کے مطابق میں ان لوگوں کے ساتھ رہتا ان کے لئے پانی بھرکر لاتا اور انہیں لکڑیاں خرید کر دیتا ان کا رہبربن کر ان کے ساتھ مسلمانوں کے گھر جاتا ان کے علاوہ بھی جو کام وہ کہتے میں کرتا۔
تبلیغی جماعت والے اس سے بہت خوش ہوتے اعر مجھے شاباش دیتے میرا نام پوچھتے میں بتاتا کہ رام چندر ہے تو سن کر تعجب کا اظہار کرتے وہ کہتے کہ حیرت ہے اس گاؤں میں مسلمان ہمارے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ ایک ہندو کا پجہ ہمارے ساتھ تعاون کرتا ہے نتیجہ\" وہ لوگ ہماری دوکان سے سودادسلف خریدتے بیماری کے وقت ہم ان سے تعویذ بھی لیتے اس طرح مجھےتبلیغی جماعت والوں کے قریب آنے کامسلسل موقع ملتا رہا۔ گاؤں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اس لیے مسلمانوں کے رسم و رواج میرے لئے کوئی نئے نہ تھے مگر تبلیغی جماعت والوں سے جب واسطہ پڑا تو میں شعوری طور پر مسلمانون کی طرف کچھ زیادہ توجہ دینے لگا اور ان کے متعلق میری سوچوں کے دائرے پھیلتے چلے گئے اتنی چھوٹی عمر میں مجھے پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم اور احسان تھا جس نے میرے زہن کو اسلام کے بارے میں سوچنے پر لگا دیا ورنہ سب جانتے ہیں یہ عمر غورو فکر کی نہیں بلکہ کھانے پینے کی اور شہرارتیں کرنے کی ہوتے ہے۔
میں نے جب پہلی بار تبلیغی مسلمانوں کو اکھٹے بیٹھ کر ایک ہی برتن میں کھانا کھاتے دیکھا تو مجھے بڑی حیرانی ہوئی ٗ ہم ہندؤں میں اکھٹے بیٹھ کر کھانا کھانے تصور بھی نہں کیا جاسکتا وہا ں تو چھوت چھات کا راج ہےجب میں نے پہلے بار تبلیغی جماعت والوں کو اکٹھے کھاتے دیکھا تو میرا خیال تھا کہ ایک دوسرے کی بیماریاں ان سب کو لگ جاہیں گی اور کل وہ لوگ بیمار ہو جائیں گے دوسرے دن میں انہیں غور سے دیکھتا رہا مگر ان میں سے کوئی بھی بیمار نہ پڑا تھا وہ جتنے دن بھی رہے تندرست رہے مگر مجھے حیرانیوں اور پریشانیوں میں ڈال گئے میں اپنے والدین سے پوچھا کرتا تو وہ ٹال جاتے مگر میں سوچتا رہتا کہ یہ کیسے ہو سکتاہے کہ ہندو اکٹھے کھائیں تو انہیں ایک دوسرے کی بیماریاں لگ جائیں مگر مسلمانوں کو کچھ بھی نہ ہوٗمیں ابھی انہی سوچوں میں گم اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کے جواب ڈھنڈرہا تھا کہ دوسری تبلیغی جماعت آجاتی اور وہ میرے زہن میں اسلام کی کوئی نئی بات ڈال جاتی۔
تبلیغی جماعت کے جانے کے بعد میں ان کی بتائی ہوئی باتوں کا مقابلہ اپنے مذہب سے کرنے لگ جاتا مگر میرا چھوٹا سا ذہن کسی نتیجے تک نہ پہنچ پاتایہ باتیں میرے ذہن میں گردش کرتی رہتین مگر زبان پر نہ آتیں۔میں عجیب کشمکش میں مبتلا تھا مجھے ہندو مت سے پیار تھا عشق تھا ہندومت میرا یمان تھا مجھے اپنے دیوتاؤں اور بھگوان کی مورتیان اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھیں لیکن تبلیغی جماعت والوں کی باتیں مجھے پریشان کردیتیں ٗ فیصلہ نہ کر پاتا کہ کون سچا ہے کون جھوٹا ان ہی سوچوںمیں دن گزرتے رہے۔
ہمارے گاؤں کے اکثر مسلمان شیعہ تھے ۔ محرم میں تعزیے نکالتے ہندو عورتیں بھی تعزیوں بہت مانتی تھیں جن کی اولاد نہ ہوتی وہ تعزیوں کے نیچے سے گزرتیں منتیں مانتیں اور نذارنے پیش کرتیں۔میں دیکھا دیکھی تعزیے کے جلوسون میں شریک ہوتا اور مسلمان لڑکوں کی آواز میں آواز ملا کر مرشے پڑھتا۔
ہمارے گاؤں سے سوئی سوا کلو میٹر دور چمبریا گاؤں کے قریب شنکر مندر تھا میں اکثر جایا کرتا تھا وہا ں کرشن اور گائے ماتا کی مورتیاں بھی رکھی ہوئی تھیں گائے ماتا کا منہ اور سری کرشن کا پاؤں آپس میں ملتے تھے عورتیں دودھ لاتیں اور دونوں کے چرنوں میں ڈالتیں سادھو دودھ اکٹھا کر کے فروخت کر دیتے۔تبلیغی جماعت والے اسلام کی نئی نئی باتیں میر ے زہن میں ڈالتے اور میں پرشان ہونے لگتا تو مندر چلا جاتا مگر وہاں بھی ذہن کو سکون نہ ملتا مجھے ایسے محسوس ہوتا کہ میں جنگل میں بھٹک رہا ہوں ٗ دور سے کسی کی آواز سنائی دیتی ہے میں آواز کی طرف بھاگنا چاہتا ہوں
مگر کوئی راستہ سچائی نہیں دیتا ٗ میں مزید پرشان ہو جاتا۔میرے ماں باپ مجھے سرسی کرشن ٗ رام چندر ٗ لچھمن ٗ سیتا اور سادھؤں کی کہانیاں سنایا کرتے کبھی میں وہ کہانیاں سن کر جھوم اٹھتا تھا اور وہ بہت اچھی لگتی تھیں اور میں اپنی والدہ اور دادی سے یہ کہانیاں سنے کی بار بار فرمائش کرتا تھا مگر اب یہ کہانیاں کوئی سناتا تو مجھے اچھی نہ لگتیں مجھے مسلمانوں کے نبی حضرت محمدﷺ کی سیرت اور حضرت علی حسن اور حسین کے واقعات بہت اچھے لگتے جب تبلیعی جماعت والے یا دوسرے مسلمان یہ واقعات بیان کرتے تو میں بڑے غور سے سنتا میر ے دل میں ان ہستیوں کے لئے ایک محبت اور عقیدت پیدا ہوتی جارہی تھی ٗ میں تفصیل سے جاننا چاہتا تھا کہ یہ لوگ کون تھے میں اپنے مذہب پر غور کرتا تو پرشان ہو جاتا میں ڈرتا کہ اگر میرے بھگوان کو میر ے خیالات کا پتہ چل گیا تو وہ مجھے جلا کر بھسم کر دے گا میں خیالا ت کو ذہن سے نکالنے کی کوشش کرتا مگر ناکام رہتا یہ کشمکش جو آٹھ سا ل کی عمر میں شروع ہوئی وقت کے ساتھ ساتھ پڑھتی چلی گئی۔
ہمارے گا ؤں سے دو کلو میٹر دور بڑا گاؤں بازار ہے وہاں کے پرائمری سکول میں پڑھتا تھا میرے ہم جماعت زیادہ تر مسلمان تھے ٗ ان میں جعفر عل بھی تھا جو میرا دوست تھا اسی سکول میں میرے گاؤں کے ایک استاد نسیم صاحب بھی پڑھاتے تھے میں جعفر علی سے سلام کے بارے میں معلومات لینے لگا وہ میری ہی طرح کم عمر تھا مگر اسلام کے بارے میں کافی معلومات رکھتا تھا وہ اکثر اسلام کے متعلق مجھے بتاتا اور میں بھی اس سے طرح طرح کے سوالا ت پوچھتا رہتا کبھی وہ ماسٹر نسیم صاحب سے میر ے سوالوں کے جواب پو چھ کر بتاتا۔
مجھے معلو م تھا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ خدا صرف ایک میں سو چتا ہندو بھی تو کہتے ہیں کہ بھگوان ایک ہے مسلمانوں کے اللہ اور ہندوؤں کے بھگوان میں ناموں کے سوا کیا فرق رہ جاتا ہے۔ میں نےہی سوال جعفر اور عبدلغنی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مسلمان اس خدا کو مانتے ہیں جس نے اس پوری کائنات کو بنایا پھر انسان کو پیدا کیا اور اس کی ضرورت اور خدمت کے لئے جمادات نباتات اور حیوانات پیدا کئے ۔
مسلمان اس خدا پر ایمان رکھتے ہیں جو سورج اور چاند کی گردش کو کنٹرول کرتا ہے اور آسمانوں سے بارش بر ساتا ہے ہوائیں چلاتا ہے اسے کبھی اونگھ نہیں آتی وہ خد کسی کی اولاد ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے ٗ وہ ازل سے ہے اور وہ ابد تک رہے گا اور اسے کسی مٹی یا پتھر کے بت میں قید نہیں کیا جا سکتا وہ اتنی قوت والا ہے کہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ٗ وہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ سب اس کے محتاج ہیں وہ انسانوں کی غلامی سے نکالنے کے لئے انبیا ء بھیجتا ہے اور انسانوں کو سیدھا رستہ دکھاتا ہے لیکن ہندو جن مٹی ٗ پتھر اور لکٹری کے بتوں کو بھگوان سمجھ کر پوجتے ہیں۔
سب انسا ن کے اپنے ہاتھوں کے تراشے ہوئے ہیں یہ سب انسان کی تخلیق ہیں اور خالق ہمیشہ اپنی مخلوق سے اعلیٰ وارفع ہوتا ہے اور اعلی ٰ کبھی ادنیٰ کے سامنے نہیں جھکتا ٗ اس لحاظ سے بھی انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں تراشے ہوئے کے سامنے سجدہ ریز ہو پھر ہندو جن بتوں کو بھگوان اور ایشور کا درجہ دے کر خدا کی طرح پوجا کرتے ہیں۔
ان کے اندر اتنی سکت بھی نہیں کے وہ اپنے اوپر بیٹھی ہوئی کسی مکھی کو بھی اڑا سکیں یا کسی ایک تنکے ہی کو تخلیق کر سکیں پھر بھگوان اور ایشور کی مورتیوں کو چوریاں بھی ہوتی ہیں اور وہ اپنی چو ریا ں بھی نہیں روک سکتے اس لیے یہ بھگوان اور ایشور کے بت خدا کسے ہو سکتے ہیں ؟ حقیقی خدا تو وہ ہے جس کی مرضی سے درخت کا پتا بھی نہیں ہل سکتا اور جس کی تخلیق کردہ اس نظام میں بھگواں اور ایشو ر کے سارے بت مل کر کوئی تبدیلی نہیں لا سکتےٗ کیا بھگوان یا ایشور کے یہ بت کبھی سورج کو مغرب سے طلوع کر سکتے ہیں؟
وہ تو اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے اگر انہیں گنددے نالے میں پھینک دے تو وہ باہر نہیں نکل سکتے ٗ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہیں ۔ " اگر آسمان اور زمیں میں ایک اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہوتے تو زمین آسمان درہم برہم ہوجاتے"۔
ان کی اس گفتگو نے میرے ذہن کے دریچے کھول دئیے تھے اور میرے سوچنے کی راہیں اور وسیع ہو گئی تھیں مگر صراطِ مستقیم سے میں ابھی بہت دور تھا۔
ابھی جاری ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)
















